واشنگٹن،4جولائی(آئی این ایس انڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ایک لاعلاج بیماری کے شکار شیر خوار کے علاج میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 10ماہ کے چارلی گارڈ کے والدین اپنے بچے کو امریکا میں علاج کے لیے لے جانے کی قانونی جنگ قریبا ہار گئے تھے کیونکہ برطانوی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ مریض بچے کو سفر میں ڈالنے سے اس کی بیماری اور بھی پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ تاہم بچے کے والدین اپنے مطالبے پر مصر رہے اور انہوں نے یورپی یونین کی انسانی حقوق عدالت میں اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کیفیصلے کو تبدیل کرانے میں مداخلت کرے تاہم یورپی عدالت نے بھی ایسا کرنے سیانکار کردیا تھا۔
لندن کے ایک اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چارلی گارڈ کے علاج کا ان کے پاس کوئی حل نہیں اور نہ ہی امریکا میں بچے کی انوکھی موروثی بیماری کا کوئی علاج ہے۔ تاہم اسے تجرباتی ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سرگرم امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ اگر ننھے چارلی گارڈ کے علاج میں ہماری کسی خدمت کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے برطانوی دوستوں اور پوپ کے لیے بچے کے علاج میں معاونت پر خوشی ہوگی۔
خیال رہے کہ چارلی گارڈ ایک انوکھی اور پراسرار بیماری کا شکار ہے۔ آج منگل کو اس کی عمر گیارہ ماہ ہوجائے گی مگر وہ ابھی تک اپنے ہاتھ پاؤں کو حرکت نہیں دے سکتا اور نہ ہی خود سانس لے سکتا ہے۔ اسے مصنوعی آکسیجن سے سانس لینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔بچے کے والدین نے چارلی کے امریکا میں علاج کے لیے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی تھی۔ اس مہم کے دوران انہوں نے 83مخیر حضرات سے 16لاکھ 80ہزار ڈالر کی رقم بھی جمع کرلی تھی۔ تاہم برطانوی عدالت نے انہیں بچے کو امریکا لے جانے سے منع کردیا تھا۔